loader image

Days Passed

6816

AAFIA MOVEMENT

ایٹمی قوت پاکستان : حفیظ خٹک

مئی 1998 ءکا دن تھا۔ موجودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اس وقت بھی وزیر اعظم تھے بلوچستان میں چاغی کے مقام پر زیر زمیں حکومت کی منشاءپر یکے بعد دیگرے 6 ایٹمی دھماکے ہوتے ہیں۔ دھماکوں کے بعد عالم اقوام پر جہاں سکتہ طاری ہو تا ہے وہیں مظلوم مسلمانوں میں اک خوشی کی لہر دوڑتی ہے۔ 28 مئی 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان عالمی سطح پر ساتواں جبکہ پہلا اسلامی ایٹمی ملک بن جاتا ہے۔ تب سے آج تلک اسی قوت کے باعث دشمنان دین کی پاکستان پر براہ راست حملہ کرنے کی سوچ ہی ختم ہوئی۔

ایٹمی دھماکوں کے بعد پوری قوم سمیت عالم اسلام میں ایک جذباتی کیفیت طاری تھی جو کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ حقیقتاً اب معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ مظلوم اور پسے ہوئے مسلمانان عالم ایٹمی قوت پاکستان سے وابستہ امیدیں میں اب دم توڑتی محسوس ہو رہی ہیں کیونکہ انہیں آس و امید تھی کہ اب ان کی پشت پر پاکستان جو کہ ایک ایٹمی قوت کھڑا ہو گا اور ان کے دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر انہیں ظلم سے نجات دلا سکے گا۔ انہیں آزادی دلوائے گا۔ ان کی تعمیر و ترقی میں پوری پوری معاونت کرے گا۔ تمام عالم اسلام میں ایک بڑے بھائی کا کردار ادا کر ے گا۔ اس کی سرپرستی میں عالم اسلام کے 55 سے زائد ممالک یکجان ہو کر عالمی سازشوں کا جواں مردی سے مقابلہ کر یں گے۔

عالمی طاقتوں سے برابری کی سطح پر مذاکرات کریں گے اور یوں اسلام کا اور اسلام پسندوں کا چاروں طرف بول بالا ہو گا۔ مقبوضہ کشمیر بھی مقبوضہ نہیں رہے گا۔ بیت المقدس بھی آزاد ہو گا۔ افغان کہساروں میں بھی امن ہو گا۔ برما، بھارت اور افریقہ سمیت دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان مصائب سے دو چار ہیں وہ اب نہیں رہیں گے۔ ان کے مصائب ختم ہو کر آسائش اور آسانی میں بدل جائیں گے۔ انہیں آزادی بھی ملے گی ااور پر امن انداز میں ترقی کے یکساں مواقع بھی وہ اپنی مرضی سے اسلام کے مطابق اپنی زندگیوں کو اسلام کی روشنی سے منور کریں گے اور یوں دنیا میں پاکستان کا نام اور ایک نہایت اعلیٰ مقام ہو گا۔

مگر وہ کیا ہے کہ یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

 ایٹمی دھماکوں کے بعد ہی عالمی قوتوں نے سر جوڑ کر بھر پور منصوبہ بندی کی اور اس وقت کے موجودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ ایک فوجی آمر کے ذریعے الٹ دیا۔ جی ہاں (ر) جنرل پرویز مشرف جو آج ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مکافات عمل کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ جس کا حال آج دنیا کے سامنے کچھ بھی اچھا نہیں۔ اور اس حال کو دیکھتے ہوئے شاید کہ مستقبل بھی عجب ہو۔ بہر حال تو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو پابند سلاسل کیا اور بعد ازاں ایک معاہدے کے ذریعے سعودی عرب کی مداخلت پر انہیں سعودی عرب ملک بدر کر دیا گیا۔ اس آمر نے اقتدار سنبھالنے کے بعد کیا کارہائے نمایاں سرانجام دیے اور ان کارناموں کے سبب تاریخ ان کو کن الفاظ و القاب سے یاد رکھے گی۔ اس کا اندازہ ان کی موجودہ صورتحال سے لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کبھی بھی 28 مئی کو یوم تکبیر کی حیثیت سے نہیں منایا ۔ ہاں مسلم لیگ ن اپنے طور پر کہیں جمع ہو کر کیک کاٹنے کے عمل کے ذریعے نقارخانے میں طوطی کی آواز کے مصداق اس دن کو منانے کی کوشش کرتی رہی۔ جس طرح ہر عروج کو زوال ہوتا ہے بالکل اسی طرح جنرل (ر) پرویز مشرف جو کہ اپنے عروج میں اپنے ہی ہم وطنوں کے متعلق کہا کرتا تھا کہ اکبر بگٹی کو وہاں سے راکٹ ماروں گاکہ خبر تک نہیں ہو گی۔ لال مسجد و جامعہ حفصہ پر ایسا آپریشن کروں گا جو بعد میں کیا بھی کہ پاکستان سے یہ ملائیت ختم ہو جائے گی لیکن کون سمجھاتا صدر صاحب کو فزکس کا وہ اصول کہ جس میں یہ واضح کر دیا جاتا ہے کہ جس چیز کو اوپر سے دبایا جاتا ہے وہ اتنی ہی قوت سے زمین پر پھیلتی چلی جاتی ہے لہٰذا وہی ہوا۔ صدر جنرل مشرف نے جس کو بھی اپنے تئیںدبانے کی، ختم کرنے کوشش کی وہ اتنی ہی پھیلتی اور پھولتی چلی گی۔ لہذا ان کا عروج بالآخر زوال پذیر پوا اور وہ ان دنوں رحم طلب نگاہوں سے ڈرے بغیر سبھی کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ لیکن کیا کہیں ان کے تمام قریبی ساتھیوں، خوشامدیوں کو جو کہ انہیں بیچ منجھدہارمیں تنہا چھوڑ کر رفو چکر ہو گئے۔ ان کے بعد اپنی بیگم اور اس ملک کی بیٹی شہید بے نظیر بھٹو کی قربانی دے کر زرداری صاحب صدر مملکت بن گئے۔ انہوں نے جس طرح مزے کرتے اور کراتے ہوئے ری کنسیلیشن کے نام پر خود بھی کھاو اور سامنے والوں کو بھی کھلاو¿ کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر اپنے 5برس پورے کئے وہ اپنی مثال آپ ہیں تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ انہی کا طرہ امتیاز ہے کہ انہوں نے ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی جمہوری حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع دیا۔ ان کے دور میں بھی یوم تکبیر کو منانے کا جوش بھی برائے نام ہی رہا۔ اپنی ناقص پالیسیوں کے سبب ملکی تاریخ میں بدترین شکست سے دوچارہونے کے بعد سابق صدر زرداری اب بیک فٹ پرجا کر تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ اور کھیلنے کے لیے انہوں نے فرنٹ فٹ پر بلاول زرداری کو کر دیا ہے۔ اپنے آپ کو ایٹمی دھماکوں کی خالق کہنے والی مسلم لیگ ن کو ملکی تاریخ میں تیسری بار حکومت کرنے کا موقع ملا۔ اس ایٹمی قوت کی خالق جماعت کا تو المیہ ہی یہ ہے کہ اس نے آج تک اس یوم تکبیر نام کے خالق احمد مجتبیٰ تک کو نوازا نہیں وہ کس طرح سے یوم تکبیر کے جشن کو منا کر اس کا حق ادا کر ے گی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس احمد مجتبیٰ کو فوری اعزاز سے نوازا جا تا ہے اور اس کے نام کو بھی ملکی تاریخ میں اسی طرح یاد رکھے جانے کے قابل بنایا جاتا جس طرح دیگر اہم لوگوں کو یاد رکھا جاتا ہے۔ تاہم اب تک تو کچھ نہیں ہوا جس سے احمد مجتبیٰ سمیت ان تمام پاکستانیوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ جنہوںنے اپنی صلاحتیوں کا لوہا منوایا اپنے ٹیلنٹ کی بنیاد پر اپنا اور ملک کا نام روشن کیا لیکن انہیں حکومت نے کسی بھی طرح کا کوئی انعام و اکرام نہیں دیا کوئی بھی صلہ نہیں دیا۔

ایسے ہی ناموں میں ایک نام امت کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا بھی آتا ہے۔ وہ عافیہ صدیقی جس نے پاکستان کے لیے قربانیاں دیں اور اب تک دے رہی ہیں۔ وہ عافیہ جس نے امریکہ کے بہترین تعلیمی اداروں میں نہایت اعلیٰ درجے کی کامیابیوں کے ریکارڈ بنائے اور وہاں کی شہریت کو ٹھکرا یا وہ عافیہ جو اس ملک میں انقلابات لانا چاہتی تھی ۔ ہاں وہ عافیہ صدیقی جس کے خاندان نے قیام پاکستان کی جدوجہد جانی، مالی و معاشی ہر طرح سے مدد کی۔ وہ عافیہ صدیقی کہ پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کے باوجود خود پسِ زنداں ہے۔ ہاں وہی عافیہ صدیقی جس کی بوڑھی ماں اس کا راستہ تکتے تکتے تھکے جا رہی ہے، جس کی بہن نے اپنا کیرئیر اپنی زندگی اپنا سب کچھ صرف اس کی رہائی اور آزادی کے لیے داو¿ پر لگا چکی ہے۔ وہی عافیہ صدیقی جس کے 2بچے احمد و مریم اس کے انتظار میں لڑکپن سے جوانی کی جانب بڑھ چکے ہیں اور وہی عافیہ صدیقی جس کا ایک بیٹا سلیمان نجانے زندہ ہے کہ نہیں آج بھی کہیں کہیں اس کی راہ میںتک رہا ہو گا۔ اسی عافیہ اور اس جیسی امت مسلمہ میں موجود ہزاروں عافیہ کے لیے پاکستان کا ایٹمی قوت ہونا آخر کس کام کے ہیں۔ عافیہ توا اس وقت کہ جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو پابند سلاسل کر دیاتھا اس لمحے راتوں کو اٹھ اٹھ کر اس کی آزادی اور بحالی کی دعائیں کرتی تھیں۔ بقول ان کی والدہ عصمت صدیقی صاحبہ کے تہجد کے اوقات میں نواز شریف کی رہائی کے لیے روتے روتے دعا کیا کرتی تھی۔ نواز شریف کی اپنی بیٹی مریم نے بھی اتنی دعائیں نہیں کی ہوں گی جس قدر دعائیں عافیہ نے نواز شریف کے لیے کی تھیں۔ لیکن اسی میاں صاحب کی موجودہ حکومت نے عافیہ کو واپس لانے کا وعدہ پہلے قوم سے پھر عافیہ کے اہل خانہ سے کر چکے تھے تاہم وہ وعدے ہی کیا لہذا بہت سارے وعدوں کی طرح یہ وعدہ بھی وفا نہ ہو۔ عافیہ آج بھی پس زنداں اور ایٹمی قوت پاکستان۔۔۔ میاں صاحب کے دوسرے دور میں ایٹمی دھماکوں کے بعد جو اک آس و امید مظلوم مسلمانوں کو ہو چلی تھی۔ اب بھی موقع ہے میاں صاحب کے پاس کہ وہ انہیں پورا کر دیں۔ وہ اپنے دل و ماغ میں یہ بات بٹھا لیں کہ وہ ایک ایٹمی قوت ملک کے سربراہ ہیں لہذا وہ آگے بڑھیں سب سے پہلے عافیہ کو پاکستان لے کر آئیں ا س کے بعد مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کریں جو اس کے منتظر ہیں۔ قدرت نے یہ شاید بہت بہتر موقع میاں صاحب کو عطا کیا کہ وہ ان تمام امیدوں کو پورا کر دیں جو آج بھی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اس کی جانب تک رہی ہیں۔ اور اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو یہ ذہن نشین کر لیں کہ گنتی الٹی شروع ہو چکی ہے۔ اور مکافات عمل ہوتے دیر نہیں لگتی۔